موبائل سمز کی بائیومیٹرک تصدیق، عوامی دلچسپی گھٹ گئی

11042986_394426767384775_5010658884583171012_n

خضرحیات قریشی اپناپوٹھوار

بندش سے بچنے کے لئے لوگ فرنچائزز کے سامنے قطار در قطار کھڑے ہوگئے یہاں تک کہ چھٹی کے دنوں یں بھی سموں کی تصدیق کی جاتی رہی۔ لیکن ۔۔۔ آج یہ صورتحال ہے کہ جہاں تل دھرنے کو جگہ نہ ہوتیتھی وہ فرنچائزز اور دکانیں آج ویران پڑی ہیں

ایک اہلکار کے بقول 13 اپریل کی ڈیڈلائن دو یا اس سے کم سمز رکھنے والوں کے لئے مقرر کی گئی تھی۔ لیکن، عوام نے یہ سمجھا کہ شاید سم تصدیق کی تاریخ میں توسیع کی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ نئی تاریخ کے اعلان سے یہ غلط فہمی بھی زور پکڑ گئی کہ شاید حکومت اس بارے میں نرم موقف اختیار کرے گی۔

تاہم، اس کے برخلاف پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے)کا موقف یہ ہے کہ تصدیقی مہم کے خاتمے کی حتمی تاریخ12 اپریل 2015 ہے۔ تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی یہ تاریخ مقرر کی گئی تھی۔

چیئرمین پی ٹی اے ڈاکٹر اسمعیٰل شاہ پہلے ہی سیلولر موبائل فون کمپنیوں کے سی ای اوز کے ہمراہ باقاعدہ ایک پریس کانفرنس میں کہہ چکے ہیں کہ ملک میں مجموعی طور پر ساڑھے 13 کروڑ ایکٹیو سمز تھیں جن میں سے 3 کروڑ 80 لاکھ سمز کی موجودہ مہم سے پہلے ہی بائیو میٹرک تصدیق ہوچکی تھی، جبکہ جاری مہم کے ذریعے اب تک ساڑھے 7کروڑ سمز کی بائیو میٹرک تصدیق ہوچکی ہے۔ اس لحاظ سے مجموعی طور پر 11 کروڑ 30 لاکھ سموں کی بائیو میٹرک تصدیق ہوچکی ہے۔

ڈاکٹر اسمعیٰل شاہ کا کہنا ہے کہ 12 اپریل کے بعد بائیو میٹرک سے غیر تصدیق شدہ سمیں بند کر دی جائیں گی۔ تاہم، وہ سمیں 6 ماہ تک کسی دوسرے صارف کو جاری نہیں کی جائیں گی اور اگر کوئی صارف بائیو میٹرک تصدیق کرانا چاہے گا تو کروا کر اسے ایکٹیو کراسکے گا۔

ڈاکٹر اسمعیٰل شاہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف حکومتی کوششوں میں مدد فراہم کرنے کی غرض سے سموں کی تصدیق کیلئے ٹیلی کام انڈسٹری نے 15 ہزار بائیو میٹرک مشینیں نصب کی ہوئی ہیں جبکہ ملک کے پانچوں ٹیلی کام آپریٹرز کی جانب سے نصب کی جانے والی 65 ہزار بائیو میٹرک مشینیں اس کے علاوہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook

Get the Facebook Likebox Slider Pro for WordPress