قماربازی کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے اور رقم خورد برد کرنے کے خلاف ڈائریکٹر اینٹی کرپشن راولپنڈی کو درخواست دے دی گئی۔

اٹک (بیورو رپورٹ) ذاتی گاڑی میں گاؤں واپس جانے والے سابق چیئرمین عشر زکوۃ کمیٹی نمبردار عبدالقیوم ولد محمد خان سکنہ کنجور اور ان کے 3 ساتھیوں کو سڑک سے پکڑ کر قماربازی کا جھوٹا مقدمہ درج کرنے اور رقم خورد برد کرنے کے خلاف ڈائریکٹر اینٹی کرپشن راولپنڈی کو درخواست دے دی گئی تحریری درخواست میں سابق چیئرمین عشر زکوۃ کمیٹی نمبردار عبدالقیوم ولد محمد خان سکنہ کنجور نے ایس ایچ او تھانہ انجرأ تصور اقبال ، سب انسپکٹر محمد نواز ، اے ایس آئی شوکت ، کانسٹیبلان خان بہادر وغیرہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ گاڑیوں کا کاروبار کرتے ہیں ان کے ہمراہ ان کی کار میں عبدالخالق ولد رئیس خان ، محمد اختر ولد عمر دراز خان سکنائے کنجور اور شفاعت اللہ ولد ظفر اللہ خان ساکن طورنگ میلہ نندرک آباد کی طرف سے لکڑمار جا رہے تھے تو سامنے سے ایک سفید کار ایکس ایل آئی اور 4 موٹر سائیکل سوار آئے جو سادہ کپڑوں میں تھے ان میں سے 2 مسلح تھے کار والے نے یک دم میرا راستہ بند کیا اور کار میری گاڑی کے سامنے روکی اور موٹر سائیکل سوار میری گاڑی کے ارد گرد ہو گئے مجھے اور میرے ساتھیوں کو رائفل کی نوک پر گاڑی پر بیٹھے رہنے کا حکم دیا اور کہا کہ تمہاری جیبوں میں جتنا پیسہ ہے باہر نکالو ہم نے یک زبان میں ان سے پوچھا کہ آپ کون ہیں تو ایک مونچوں والے نے کہا تم لوگ یہ بات چھوڑو اور اتنا کہتے ہی زبردستی مونچوں والے نے اور موٹر سائیکل سواروں نے مجھ سے ایک لاکھ 64 ہزار 220 روپے چھین لیے اور سفید گاڑی چلانے والے نے اپنے رومال میں رکھ لیے مجھے اور میرے ساتھیوں کو ذاتی گاڑی سے نکال کر دوسری گاڑی میں زبردستی بیٹھا لیا اور ہمارے ساتھ ایک مسلح شخص کو بیٹھایا اور میری گاڑی کو ایک موٹر سائیکل سوار چلانے لگا ہمیں کچھ علم نہ تھا یہ کون لوگ ہیں تب پتہ چلا جب ہمیں تھانہ انجرأ پہنچایا گیا یہ پولیس والے نکلے وہاں پر ان کے ناموں کا علم ہوا جن میں ایس ایچ او سمیت دیگر عملہ شامل تھا کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ ہم سب کے خلاف 5 قمار بازی ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور ایف آئی آر میں جو برآمدگی لکھی گئی ہے وہ تمام برآمدگی جھوٹی من گھڑت کہانی بنا کر پیش کی گئی ہے ہم طلاق قرآن پاک سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ رقم ایک لاکھ 64 ہزار 220 روپے تھی لیکن ایف آئی آر میں ایک لاکھ 23 ہزار 690 روپے درج کی گئی اے ایس آئی شوکت موقع پر نہ تھا جھوٹی ایف آئی آر کی کاروائی میں اس کا نام درج کیا ان لوگوں نے ہم پر ڈاکہ ڈالا یہ محافظ کی بجائے ڈاکے والے نکلے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے ان سے ہماری اصل رقم واپس دلائی جائے اور ایف آئی آر میں تمام کاروائی جھوٹی اور من گھڑت ہے ہمیں انصاف دلایا جائے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook

Get the Facebook Likebox Slider Pro for WordPress