اخلاقی بحران

10672431_478959042244844_6788589586631880701_n                         راجہ کامل نصیر اپنا پوٹھوار

یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اخلاقی بگاڑ آج ہماری زندگی کے ہر شعبے میں داخل ہوچکا ہے۔ امانت، دیانت، صدق، عدل ،ایفاے عہد، فرض شناسی اور ان جیسی دیگر اعلیٰ اقدار کمزورپڑتی جارہی ہیں۔کرپشن اور بدعنوانی ناسور کی طرح معاشرے میں پھیلی ہوئی ہے ۔ ظلم و ناانصافی کا دور دورہ ہے۔لوگ قومی درد اور اجتماعی خیر و شر کی فکر سے خالی اوراپنی ذات اور مفادات کے اسیر ہوچکے ہیں۔ یہ اور ان جیسے دیگر منفی رویے ہمارے قومی مزاج میں داخل ہوچکے ہیں۔یہ وہ صورت حال ہے جس پر ہر شخص کف افسوس ملتا ہوا نظر آتا ہے۔
ایسے میں ضروری ہے کہ اس مسئلے کا تفصیلی جائزہ لے کر ان عناصر کی نشان دہی کی جائے جو ہمارے اجتماعی بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں۔البتہ ، اس سے قبل یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دنیوی اعتبار سے اخلاقی اقدار کی قدر وقیمت کوواضح کیاجائے تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ اگر ہم نے اصلاح کی کوشش نہ کی تو اس کے کتنے سنگین نتائج نکل سکتے ہیں۔

انسان کو اشرف المخلوقات کہا جاتا ہے، لیکن ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر یہ سوچنا چاہیے کہ انسان کو جانوروں سے ممتاز کرنے والی چیز کیا ہے؟ ہم دیکھتے ہیں کہ جانور صرف اور صرف اپنی جبلت کے تابع ہوتے ہیں۔مثلاً جب کسی جانور کو بھو ک لگتی ہے تو اس کے لیے حلال و حرام اور جائز و ناجائز کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا۔ اس کے برعکس ایک انسان زندگی کے ہر معاملے میں کچھ مسلمہ اخلاقی حدود کا لحاظ رکھتا ہے۔وہ جب اپنی کسی ضرورت کو پورا کرنا چاہتا ہے تو اس کی اخلاقی حس اسے خبردار کرتی ہے کہ وہ اپنی ضرورت کے لیے کوئی غلط راستہ اختیار نہیں کرسکتا۔ تاہم جب انسان کی اخلاقی حس کمزور ہوجاتی ہے تو وہ صحیح اور غلط کی تمیز کھونے لگتا ہے۔ وہ ایک جانور کی طرح ہر کسی کے کھیت کھلیان میں گھس جاتا ہے۔وہ اپنی ضرورت کے لیے ہر جائز و ناجائز راستہ اختیار کرلیتا ہے۔ ایسا رویہ اختیار کرنے والوں کے سفلی جذبے آہستہ آہستہ ان پر غلبہ پالیتے ہیں۔جس کے بعد انسانوں کے معاشرے میں جنگل کا قانون رائج ہوجاتا ہے اور آخر کار پوری قوم تباہی کا شکار ہوجا تی ہے۔
اس تباہی کی وجہ یہ ہے کہ انسان اصلاً ایک معاشرتی وجود ہے۔معاشرتی زندگی کچھ لو اور کچھ دو کے اصول پر قائم ہوتی ہے۔انسان کا حیوانی وجود دینا نہیں جانتا، صرف لینا جانتا ہے۔چاہے اس کا لینا دوسروں کی موت کی قیمت پر ہو۔ یہ اصلاً انسان کی اخلاقی حس ہے جو حقوق کے ساتھ فرائض سے بھی انسان کو آگاہ کرتی ہے۔ اجتماعی زندگی کا اصل حسن احسان، ایثار اور قربانی سے جنم لیتا ہے۔جب تک اخلاقی حس لوگوں میں باقی رہتی ہے ، اپنے فرائض کو ذمہ داری اور خوش دلی سے ادا کرنے والے اور ایثار و قربانی کرنے والے لوگ اکثریت میں رہتے ہیں۔جب اخلاقی حس مردہ ہونے لگے توایسے معاشرے میں ظلم و فساد عام ہوجاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں پہلے معاشرہ کمزور اور پھر تباہ ہوجاتا ہے۔یہ تباہی کبھی غیر ملکی حملہ آوروں کی مرہون منت ہوتی ہے کبھی باہمی آویزشوں کے نتیجے میں جنم لیتی ہے۔

’’حضرت ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص (اپنے دائرۂ اختیار میں) کوئی منکر دیکھے اس کو ہاتھ سے روک دے۔ اگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو زبان سے روکے۔ اگر اس کی طاقت بھی نہ رکھتا ہو تو دل سے براجانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔‘‘ (مسلم)

اس حدیث میں طاقت رکھنے کے الفاظ اپنے اختیار کو نافذ کرنے کے حوصلہ وہمت کو بیان کررہے ہیں۔ اس سے یہ مراد قطعاً نہیں کہ اپنے دائرۂ اختیار سے باہر انسان کو طاقت استعمال کرنی چاہیے اور ایسا نہ کرے تو یہ اس کے ضعف ایمان کی نشانی قرار پائے ۔ مثلاً ایک باپ کے لیے بیٹی اس کے اس دائرۂ اختیار میں ہے۔چنانچہ اس کے کسی غلط عمل کو دیکھ کر باپ کو اسے روکنا چاہیے۔ مثلاً اگر وہ گھر سے باہر جسم کشا لباس پہن کر نکلتی ہے تو بیٹی کو روکنا اس کی ذمہ داری ہے ۔ حدیث کا یہ حکم اس باپ سے متعلق ہے۔ اگر وہ اپنی بیٹی کونہیں روکتا تو اپنے ضعف ایمان کا ثبوت دیتا ہے۔اس حکم کا کوئی تعلق اس بات سے نہیں کہ ایک عام آدمی کسی راہ چلتی خاتون کو ، جس نے چادر نہ اوڑھ رکھی ہو زبردستی چادر اوڑھانے کی کوشش کرے۔ اتنی طاقت نہیں تو اسے برا بھلا کہے اوراتنی طاقت بھی نہیں تو اسے دل سے برا سمجھے اور اس حالت میں وہ کم زور ترین ایمان کا حامل ہوگا۔ اس منطق کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Facebook

Get the Facebook Likebox Slider Pro for WordPress